نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

ستمبر, 2025 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

سب متاثرین ہیں

پاکستان میں قدرتی آفات کی بھرمار ہے اور یہ آفات ہماری ہی پیدا کردہ ہیں. ہر دور میں  موجودہ حکومت اس بات پر زور دیتی نظر آتی ہے کہ کسی طرح ان حالات کے دوران لوگ اس بات پر یقین کر لیں کہ حکومت نے سر توڑ محنت کی۔ اس ضمن میں مدد کم کی جاتی ہے اور دکھائی زیادہ جاتی ہے۔ اب کی بار بھی کچھ یہی حالات ہیں۔ ایک خبر تو یہ بھی آئی کہ راشن دینے کے بعد جب تصویری بن گئیں تو وہ راشن واپس لے لیا گیا۔۔  اس دفعہ سیلاب نے سارے ریکارڈ توڑے ہیں۔ 2022 میں سیلاب سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 33 ملین تھی جبکہ اس بار اس سے بھی زیادہ ہے۔ پہلے کے سیلابوں میں صرف غریب طبقہ ہی متاثرین میں شامل ہوتا تھا پر اس دفعہ پانچویں انگلیاں برابر ہیں۔ میری نظر میں جن لوگوں کے گھر سیلاب کی زد میں آئے ہیں وہ بھی متاثرین ہیں اور جن کے گھر نہیں آئے وہ بھی متاثرہ لوگ ہیں۔اس  کی ایک وجہ یہ ہے کہ انہوں نے متاثرین کو پناہ دی ہوئی ہے جو کہ اچھی بات ہے لیکن اس کے باوجود وہ متاثرین ہیں۔ اور دوسرا یہ وہ طرح طرح کی افواہیں سن کر خود کو ہلاک کیے بیٹھے ہیں۔ کچھ دن پہلے یہ افواہ پھیل گئی کہ دوست محمد لالی بریج میں دراڑیں پڑ گئی ہی...