نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

سب متاثرین ہیں

پاکستان میں قدرتی آفات کی بھرمار ہے اور یہ آفات ہماری ہی پیدا کردہ ہیں. ہر دور میں  موجودہ حکومت اس بات پر زور دیتی نظر آتی ہے کہ کسی طرح ان حالات کے دوران لوگ اس بات پر یقین کر لیں کہ حکومت نے سر توڑ محنت کی۔ اس ضمن میں مدد کم کی جاتی ہے اور دکھائی زیادہ جاتی ہے۔ اب کی بار بھی کچھ یہی حالات ہیں۔ ایک خبر تو یہ بھی آئی کہ راشن دینے کے بعد جب تصویری بن گئیں تو وہ راشن واپس لے لیا گیا۔۔  اس دفعہ سیلاب نے سارے ریکارڈ توڑے ہیں۔ 2022 میں سیلاب سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 33 ملین تھی جبکہ اس بار اس سے بھی زیادہ ہے۔ پہلے کے سیلابوں میں صرف غریب طبقہ ہی متاثرین میں شامل ہوتا تھا پر اس دفعہ پانچویں انگلیاں برابر ہیں۔ میری نظر میں جن لوگوں کے گھر سیلاب کی زد میں آئے ہیں وہ بھی متاثرین ہیں اور جن کے گھر نہیں آئے وہ بھی متاثرہ لوگ ہیں۔اس  کی ایک وجہ یہ ہے کہ انہوں نے متاثرین کو پناہ دی ہوئی ہے جو کہ اچھی بات ہے لیکن اس کے باوجود وہ متاثرین ہیں۔ اور دوسرا یہ وہ طرح طرح کی افواہیں سن کر خود کو ہلاک کیے بیٹھے ہیں۔ کچھ دن پہلے یہ افواہ پھیل گئی کہ دوست محمد لالی بریج میں دراڑیں پڑ گئی ہی...
حالیہ پوسٹس

مصنوعی ذہانت اور ہراری کی نئی کتاب

 حال ہی میں اسرائیلی مصنف یووال نوح ہراری کی نئی کتاب شائع ہوئی ہے  کتاب کا نام ہے  Nexus: A Brief History of Information Networks from the Stone Age to AI   ہراری  ہمارے زمانے  کے  بڑے نہیں،مقبول عام مصنف ضرور ہیں۔بڑا مصنف ہر شے کو گہرائی میں دیکھتا، کئی اطراف سے دیکھتا اور  نئے اور بڑے سوالات قائم کرتا ہے۔ مقبول عام مصنف، ایک واضح نقطہ ء نظر کو سادہ وسہل زبان میں عوام تک پہنچاتا ہے۔   ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ دنیا کا ناک نقشہ ،زیادہ تر مقبول عام مصنف بناتے ہیں، ہر زمانے کے مقبول عام مصنف۔  بڑے مصنف سراہے زیادہ، پڑھے کم جاتے ہیں۔ سمجھے تو اس سے بھی کم جاتے ہیں۔  دوسری طرف اکثر مقبول عام مصنف ، بڑے مصنفوں  کے خیالات کو سادہ وسہل زبان میں پیش کرنےو الے ہوتے ہیں۔   بہ ہر کیف ہراری ایک مقبول عام مصنف ہیں۔ وہ مقبول عام مصنف  ہی کی مانند، مقتدر قوتوں کی ناراضی سے بچتے ہیں۔ وہ اپنی کتابوں میں نازی ازم ، سٹالن از م پر کھل کر تنقید کرتے ہیں، مگر صیہونیت اور استعماریت  پر   تنقید سے گریز کرتے ہیں، بس چلتے ...

Mickey 17

  مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی موت  آتی  ہے  پر  نہیں  آتی "Everything you can imagine is real." جہاں مسلمان حال تو دور ماضی میں پھنسے ہوئے ہیں وہیں انگریزی اس بات میں مگن ہیں کہ مستقبل کیسا ہوگا اور اس ضمن وہ آئے دن ایسے ایسے شہکار خیالات سامنے لاتے ہیں کہ مری عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ہم تو ابھی اس سوچ سے ابھر نہیں پا رہے کہ فلمیں دیکھنا حلال ہے یا حرام۔  بہرحال یہ فلم دیکھنے کے بعد اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہوں اور اس پہ اظہار خیال کرنے کا ارادہ کیا۔  یہ ایک ڈارک کامیڈی اور سائنس فکشن فلم ہے۔ ہدایتکار ہیں بونگ جون ہو جنہوں نے مشہور زمانہ فلم پیراسائٹ   بنائی جس پر انہیں ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ مرکزی کردار نبھایا ہے رابرٹ پیٹرسن نے جس کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ فلم کی کہانی دلچسب ہے۔ 2054 کا سن ہے۔ مکی بارنز نامی شخص اپنے دوست ٹیمو کے ساتھ ایک خلائی مشن جوائن کرتا ہے۔ یہ مشن ایک برفیلے سیارے نیفلہائم کی طرف بھیجا جا رہا ہے۔ مکی کی ملازمت بہت عجیب نوعیت کی ہے۔ مکی اس مشن میں "ایکسپینڈیبل" کے طور پر شامل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مکی کو اس سفر ...

بدلتے موسم۔۔۔ بدلتے انسان

یونہی موسم کی   ادا دیکھ  کے   یاد آیا  کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں موسم بدلتا ہے اور دلوں کو اداس کر دیتا ہے ۔ موسم بدلتے ہی انسان اپنے اندر ایک طرح کی اداسی محسوس کرنے لگتا ہے اس کا تعلق نفسیات سے بھی ہے اور سائنس سے بھی ہے۔  نفسیاتی پہلو: پہلے ہم نفسیاتی پہلو کو دیکھتے ہیں۔ موسم کی تبدیلی کچھ لوگوں کے لئے مخصوص یادیں یا واقعات کو تازہ کرتی ہے، جو اداسی کا باعث بنتی ہے۔ مثال کے طور پر بدلتے ہوئے موسم کو دیکھنا کسی کے لئے بدلے ہوئے حالات یا بدلے ہوئے انسان یاد دلا سکتا ہے۔ انسان عموما اداس صفت پایا گیا ہے۔ اور اسے موسم کے بدلنے سے ایسے واقعات ہی یاد آتے ہیں جو اس کے زندگی میں اداسی لائے۔ یہ واقعات اپنے کے بچھڑنے کے بھی ہو سکتے ہیں اور ان کے بدلتے رویوں کے بھی۔ یہ انسان کی نفسیات ہے کہ وہ خوشی کے پل بھول جاتا ہے جبکہ اداسی کے لمحات گاہے بگاہے یاد کرتا رہتا ہے۔ آسمانوں ہر بادل چھائے ہوں اور سوج کا نام نشاں تک نہ ہو ایسے وقت میں ایک اداسی کی لہر آتی ہے اور ہم اس وقت کو یاد کرنے لگتے ہیں جو صدیوں پہلے گزر گیا تھا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس وقت سب...

انا، توہین کا زخم اور جنگ

مجھے نیند کم آتی ہے۔ گہری ، مکمل بے خبری کی نیند تو میراسب سے بڑا خواب ہے۔ بڑے خواب کہاں پورا ہواکرتے ہیں۔  تھوڑی بہت نیند جو آتی ہے ،اس میں خیالات کے کئی سلسلے ہوتے ہیں۔ کچھ زنجیر کی مانند،کچھ خزاں میں اڑتے ہوئے پتوں کی طرح اور کچھ سررئیل مصوری کی طرح ۔ کہیں کی چیز، کہیں آن ملتی ہے۔ میں نیند اور بیداری کی سرحد پر ڈولتا رہتا ہوں۔ مجھے نہیں پتا چلتا کہ کب خواب کی مملکت میں چلا گیا ہوں،اور کب بیداری کی سلطنت میں۔  سرحد جہاں ہوتی ہے، جھگڑا رہتا ہے،یا جھگڑے کا امکان رہتا ہے۔ میرے اندر بھی ،رات کوکئی جھگڑے چلتے رہتے ہیں۔ اپنے خلاف، دنیا کے خلاف اور دنیا کو چلانے والوں کے خلاف۔ رات تو لڑائی کا ایک اور میدان ہی نہیں، آسمان بھی موجود تھا۔   گزشتہ رات ، جب کمرے کی روشنی بند کی ،اور اندھیر ے کو دیکھا تو مجھے جانے کیوں لگا کہ اندھیر ا،آدمی کو نگل سکتا ہے۔ اندھیرا، محض روشنی کے نہ ہونے کی حالت نہیں ہے، یہ ایک الگ ،جدا ، ہیبت ناک وجود ہے، جو بس چھیا رہتا ہے،روشنی کے بالکل پیچھے۔ جیسے آدمی کا سایہ ،آدمی کے آس پاس ہی منڈلاتا رہتا ہے۔  روشنی کے عقب میں چھپا ہوا اندھ...

میر تقی میر کی شاعری

اردو ادب سے تعلق رکھنے والا شاید ہی کوئی ہوگا جو میر تقی  میر کے نام سے واقف نہ ہو۔ ان کو بعد میں آنے والے ہر شاعر نے اپنا استاد مانا ہے۔ اور کسی نہ کسی انداز میں اپنے پیار کا اظہار کیا ہے۔ آج ان کی ایک عزل آنکھوں کے سامنے سے گزری تو سوچا آپکا بھی منہ میٹھا کیا جائے۔  غزل ملاحظہ ہو۔ تجھ کنے بیٹھے گھٹا جاتا ہے جی کاہشیں کیا کیا اٹھا جاتا ہے جی یوں تو مردے سے پڑے رہتے ہیں ہم پر وہ آتا ہے تو آ جاتا ہے جی ہائے! اس کے شربتی لب سے جدا  کیا بتاشا سا گھلا جاتا ہے جی اب کی اس کی راہ میں جو ہو سو ہو یاد بھی آتا ہے یا جاتا ہے جی کیا کہیں تم سے کہ اس شعلہ بغیر جی ہمارا کچھ جلا جاتا ہے جی عشق آدم میں نہیں کچھ چھوڑتا  ہولے ہولے کوئی کھا جاتا ہے جی اٹھ چلے پر اس کے غش کرتے ہیں ہم یعنی ساتھ اس کے چلا جاتا ہے جی آ نہیں پھرتا وہ مرتے وقت بھی حیف! ہے اس میں رہا جاتا ہے جی رکھتے تھے کیا کیا بنائیں پیشتر سو تو اب آپ ہی ڈبا جاتا ہے جی آسماں شاید ورے کچھ آ گیا رات سے کیا کیا رکا جاتا ہے جی کاش کے برقع رہے اس کے رخ پہ میر منہ کھلے اس کے چھپا جاتا ہے جی میر تقی میر

مطالعہ کی اہمیت

  انسان اور علم کا بنیادی اور باہمی تعلق ہے۔ انسان یہ علم شعوری اور غیر شعوری طور پر حاصل کرتا رہتا ہے۔ شعوری علم سے یہ ہے کہ ہم کسی چیز کے بارے میں جانے کا ارادہ کریں اور پھر اس کے لئے کوشاں رہیں حتی کہ اس چیز کے بارے میں مکمل طور پر آگاہی حاصل کر لیں۔ جب غیر شعوری علم وہ ہوتا ہے جس کے لئے ہمیں کوشش نہیں کرنی پڑتی بلکہ وہ اپنے آپ ہی حاصل ہوتا رہتا ہے۔۔ یہ علم آپ سڑک کنارے چلتے ہوئے بھی حاصل کر سکتے ہیں اور اگر آپ پریشان ہیں اور کچھ کرنے کا ارادہ نہیں ہے اور تب بھی حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔ میری نظر غیر شعوری علم کو زیادہ اہمیت حاصل ہے اور یہ اتنا وسیع مدعا ہے کہ اس پر الگ سے کرنی چاہیے جو کہ کبھی آئندہ آرٹیکل میں کروں گا۔  اب آتے ہیں اپنے اصل موضوع کی طرف اور وہ ہے مطالعہ کی اہمیت۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جو بھی اشخاص جہنوں نے ادب، آرٹ سائینس یا باقی شعبوں میں اپنا اپنا نام اجاگر کیا ہے وہ نہایت ہی مطالعہ پرست انسان تھے اور گھنٹوں گھنٹوں مطالعہ کرتے تھے۔ یہاں میں اپنے استاد جو پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے منسلک ہیں ان کی مثال دینا چاہوں گا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے زمانہ...