پیر، 25 اگست، 2025

Mickey 17

 

مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی

موت  آتی  ہے  پر  نہیں  آتی

"Everything you can imagine is real."

جہاں مسلمان حال تو دور ماضی میں پھنسے ہوئے ہیں وہیں انگریزی اس بات میں مگن ہیں کہ مستقبل کیسا ہوگا اور اس ضمن وہ آئے دن ایسے ایسے شہکار خیالات سامنے لاتے ہیں کہ مری عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ہم تو ابھی اس سوچ سے ابھر نہیں پا رہے کہ فلمیں دیکھنا حلال ہے یا حرام۔  بہرحال یہ فلم دیکھنے کے بعد اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہوں اور اس پہ اظہار خیال کرنے کا ارادہ کیا۔ 

یہ ایک ڈارک کامیڈی اور سائنس فکشن فلم ہے۔ ہدایتکار ہیں بونگ جون ہو جنہوں نے مشہور زمانہ فلم پیراسائٹ   بنائی جس پر انہیں ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔

مرکزی کردار نبھایا ہے رابرٹ پیٹرسن نے جس کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔

فلم کی کہانی دلچسب ہے۔ 2054 کا سن ہے۔ مکی بارنز نامی شخص اپنے دوست ٹیمو کے ساتھ ایک خلائی مشن جوائن کرتا ہے۔ یہ مشن ایک برفیلے سیارے نیفلہائم کی طرف بھیجا جا رہا ہے۔


مکی کی ملازمت بہت عجیب نوعیت کی ہے۔ مکی اس مشن میں "ایکسپینڈیبل" کے طور پر شامل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مکی کو اس سفر کے دوران خطرناک کام کرنے ہوں گے جس میں اس کی جان جا سکتی ہے۔ مگر ہر بار جب وہ مرے گا اس کا ایک کلون یعنی نقل تیار کی جائے گی جو ہو بہو اس کی طرح ہوگی۔


یہ نیا کلون اسی طرح اپنا کام جاری رکھے گا۔  اگر کسی مہم کے دوران یہ مر گیا تو ویسا ہی ایک اور کلون بنا دیا جائے گا۔


اسی طرح مرتے مرتے بات پہنچ جاتی ہے سترہ نمبر کلون تک یعنی مکی 17 تک۔ یہ والا مکی اپنے کام کے دوران برف ٹوٹنے سے کھائی میں گر جاتا ہے۔ 


مکی کا کوئی اتا پتا نہیں لگتا۔ سب یہ سمجھ لیتے ہیں کہ مکی 17 مر چکا ۔ سو اس کا ایک نیا کلون تیار کر دیا جاتا ہے یعنی مکی 18.


اب مکی 17 واپس آتا پے تو مکی 18 کو دیکھ کر پرہشان ہو جاتا ہے۔ اب دونوں میں سے ایک کو مرنا ہوگا۔ مگر مرنے کے لیے کوئی تیار نہیں۔ سو اس عجیب داستان میں آگے کیا ہوگا۔ اس کے لیے فلم دیکھنا ہوگی ۔


فلم انسانی کلوننگ جیسے حساس موضوع اور اس سے جڑے اخلاقی اور سماجی مسائل پر روشنی ڈالتی ہے۔ انسانی کلون بنانا کس حد تک خطرناک ہو سکتا ہے یہ اس فلم کو دیکھ کر پتہ چل سکتا ہے۔


مزے دار فلم ہے۔ اس کا ایک ڈائیلاگ مجھے اچھا لگا جب مکی 17 اپنے نئے کلون سے کہتا ہے کہ پہلے جب میں مرتا تھا تو مجھے فکر نہیں ہوتی تھی کیوں کہ مجھے پتہ ہوتا تھا کہ میں دوبارہ زندہ ہو جاؤں گا۔ مگر اس دفعہ معاملہ مختلف ہے۔ اب اگر میں مر گیا تو ختم ہو جاؤں گا ۔ کیوں کہ تم موجود ہو اور اگلی ساری زندگیاں تم جیو گے۔


0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں