نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

Mickey 17

 

مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی

موت  آتی  ہے  پر  نہیں  آتی

"Everything you can imagine is real."

جہاں مسلمان حال تو دور ماضی میں پھنسے ہوئے ہیں وہیں انگریزی اس بات میں مگن ہیں کہ مستقبل کیسا ہوگا اور اس ضمن وہ آئے دن ایسے ایسے شہکار خیالات سامنے لاتے ہیں کہ مری عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ہم تو ابھی اس سوچ سے ابھر نہیں پا رہے کہ فلمیں دیکھنا حلال ہے یا حرام۔  بہرحال یہ فلم دیکھنے کے بعد اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہوں اور اس پہ اظہار خیال کرنے کا ارادہ کیا۔ 

یہ ایک ڈارک کامیڈی اور سائنس فکشن فلم ہے۔ ہدایتکار ہیں بونگ جون ہو جنہوں نے مشہور زمانہ فلم پیراسائٹ   بنائی جس پر انہیں ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔

مرکزی کردار نبھایا ہے رابرٹ پیٹرسن نے جس کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔

فلم کی کہانی دلچسب ہے۔ 2054 کا سن ہے۔ مکی بارنز نامی شخص اپنے دوست ٹیمو کے ساتھ ایک خلائی مشن جوائن کرتا ہے۔ یہ مشن ایک برفیلے سیارے نیفلہائم کی طرف بھیجا جا رہا ہے۔


مکی کی ملازمت بہت عجیب نوعیت کی ہے۔ مکی اس مشن میں "ایکسپینڈیبل" کے طور پر شامل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مکی کو اس سفر کے دوران خطرناک کام کرنے ہوں گے جس میں اس کی جان جا سکتی ہے۔ مگر ہر بار جب وہ مرے گا اس کا ایک کلون یعنی نقل تیار کی جائے گی جو ہو بہو اس کی طرح ہوگی۔


یہ نیا کلون اسی طرح اپنا کام جاری رکھے گا۔  اگر کسی مہم کے دوران یہ مر گیا تو ویسا ہی ایک اور کلون بنا دیا جائے گا۔


اسی طرح مرتے مرتے بات پہنچ جاتی ہے سترہ نمبر کلون تک یعنی مکی 17 تک۔ یہ والا مکی اپنے کام کے دوران برف ٹوٹنے سے کھائی میں گر جاتا ہے۔ 


مکی کا کوئی اتا پتا نہیں لگتا۔ سب یہ سمجھ لیتے ہیں کہ مکی 17 مر چکا ۔ سو اس کا ایک نیا کلون تیار کر دیا جاتا ہے یعنی مکی 18.


اب مکی 17 واپس آتا پے تو مکی 18 کو دیکھ کر پرہشان ہو جاتا ہے۔ اب دونوں میں سے ایک کو مرنا ہوگا۔ مگر مرنے کے لیے کوئی تیار نہیں۔ سو اس عجیب داستان میں آگے کیا ہوگا۔ اس کے لیے فلم دیکھنا ہوگی ۔


فلم انسانی کلوننگ جیسے حساس موضوع اور اس سے جڑے اخلاقی اور سماجی مسائل پر روشنی ڈالتی ہے۔ انسانی کلون بنانا کس حد تک خطرناک ہو سکتا ہے یہ اس فلم کو دیکھ کر پتہ چل سکتا ہے۔


مزے دار فلم ہے۔ اس کا ایک ڈائیلاگ مجھے اچھا لگا جب مکی 17 اپنے نئے کلون سے کہتا ہے کہ پہلے جب میں مرتا تھا تو مجھے فکر نہیں ہوتی تھی کیوں کہ مجھے پتہ ہوتا تھا کہ میں دوبارہ زندہ ہو جاؤں گا۔ مگر اس دفعہ معاملہ مختلف ہے۔ اب اگر میں مر گیا تو ختم ہو جاؤں گا ۔ کیوں کہ تم موجود ہو اور اگلی ساری زندگیاں تم جیو گے۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مطالعہ کی اہمیت

  انسان اور علم کا بنیادی اور باہمی تعلق ہے۔ انسان یہ علم شعوری اور غیر شعوری طور پر حاصل کرتا رہتا ہے۔ شعوری علم سے یہ ہے کہ ہم کسی چیز کے بارے میں جانے کا ارادہ کریں اور پھر اس کے لئے کوشاں رہیں حتی کہ اس چیز کے بارے میں مکمل طور پر آگاہی حاصل کر لیں۔ جب غیر شعوری علم وہ ہوتا ہے جس کے لئے ہمیں کوشش نہیں کرنی پڑتی بلکہ وہ اپنے آپ ہی حاصل ہوتا رہتا ہے۔۔ یہ علم آپ سڑک کنارے چلتے ہوئے بھی حاصل کر سکتے ہیں اور اگر آپ پریشان ہیں اور کچھ کرنے کا ارادہ نہیں ہے اور تب بھی حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔ میری نظر غیر شعوری علم کو زیادہ اہمیت حاصل ہے اور یہ اتنا وسیع مدعا ہے کہ اس پر الگ سے کرنی چاہیے جو کہ کبھی آئندہ آرٹیکل میں کروں گا۔  اب آتے ہیں اپنے اصل موضوع کی طرف اور وہ ہے مطالعہ کی اہمیت۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جو بھی اشخاص جہنوں نے ادب، آرٹ سائینس یا باقی شعبوں میں اپنا اپنا نام اجاگر کیا ہے وہ نہایت ہی مطالعہ پرست انسان تھے اور گھنٹوں گھنٹوں مطالعہ کرتے تھے۔ یہاں میں اپنے استاد جو پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے منسلک ہیں ان کی مثال دینا چاہوں گا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے زمانہ...

انا، توہین کا زخم اور جنگ

مجھے نیند کم آتی ہے۔ گہری ، مکمل بے خبری کی نیند تو میراسب سے بڑا خواب ہے۔ بڑے خواب کہاں پورا ہواکرتے ہیں۔  تھوڑی بہت نیند جو آتی ہے ،اس میں خیالات کے کئی سلسلے ہوتے ہیں۔ کچھ زنجیر کی مانند،کچھ خزاں میں اڑتے ہوئے پتوں کی طرح اور کچھ سررئیل مصوری کی طرح ۔ کہیں کی چیز، کہیں آن ملتی ہے۔ میں نیند اور بیداری کی سرحد پر ڈولتا رہتا ہوں۔ مجھے نہیں پتا چلتا کہ کب خواب کی مملکت میں چلا گیا ہوں،اور کب بیداری کی سلطنت میں۔  سرحد جہاں ہوتی ہے، جھگڑا رہتا ہے،یا جھگڑے کا امکان رہتا ہے۔ میرے اندر بھی ،رات کوکئی جھگڑے چلتے رہتے ہیں۔ اپنے خلاف، دنیا کے خلاف اور دنیا کو چلانے والوں کے خلاف۔ رات تو لڑائی کا ایک اور میدان ہی نہیں، آسمان بھی موجود تھا۔   گزشتہ رات ، جب کمرے کی روشنی بند کی ،اور اندھیر ے کو دیکھا تو مجھے جانے کیوں لگا کہ اندھیر ا،آدمی کو نگل سکتا ہے۔ اندھیرا، محض روشنی کے نہ ہونے کی حالت نہیں ہے، یہ ایک الگ ،جدا ، ہیبت ناک وجود ہے، جو بس چھیا رہتا ہے،روشنی کے بالکل پیچھے۔ جیسے آدمی کا سایہ ،آدمی کے آس پاس ہی منڈلاتا رہتا ہے۔  روشنی کے عقب میں چھپا ہوا اندھ...

بدلتے موسم۔۔۔ بدلتے انسان

یونہی موسم کی   ادا دیکھ  کے   یاد آیا  کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں موسم بدلتا ہے اور دلوں کو اداس کر دیتا ہے ۔ موسم بدلتے ہی انسان اپنے اندر ایک طرح کی اداسی محسوس کرنے لگتا ہے اس کا تعلق نفسیات سے بھی ہے اور سائنس سے بھی ہے۔  نفسیاتی پہلو: پہلے ہم نفسیاتی پہلو کو دیکھتے ہیں۔ موسم کی تبدیلی کچھ لوگوں کے لئے مخصوص یادیں یا واقعات کو تازہ کرتی ہے، جو اداسی کا باعث بنتی ہے۔ مثال کے طور پر بدلتے ہوئے موسم کو دیکھنا کسی کے لئے بدلے ہوئے حالات یا بدلے ہوئے انسان یاد دلا سکتا ہے۔ انسان عموما اداس صفت پایا گیا ہے۔ اور اسے موسم کے بدلنے سے ایسے واقعات ہی یاد آتے ہیں جو اس کے زندگی میں اداسی لائے۔ یہ واقعات اپنے کے بچھڑنے کے بھی ہو سکتے ہیں اور ان کے بدلتے رویوں کے بھی۔ یہ انسان کی نفسیات ہے کہ وہ خوشی کے پل بھول جاتا ہے جبکہ اداسی کے لمحات گاہے بگاہے یاد کرتا رہتا ہے۔ آسمانوں ہر بادل چھائے ہوں اور سوج کا نام نشاں تک نہ ہو ایسے وقت میں ایک اداسی کی لہر آتی ہے اور ہم اس وقت کو یاد کرنے لگتے ہیں جو صدیوں پہلے گزر گیا تھا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس وقت سب...