اردو ادب سے تعلق رکھنے والا شاید ہی کوئی ہوگا جو میر تقی میر کے نام سے واقف نہ ہو۔ ان کو بعد میں آنے والے ہر شاعر نے اپنا استاد مانا ہے۔ اور کسی نہ کسی انداز میں اپنے پیار کا اظہار کیا ہے۔ آج ان کی ایک عزل آنکھوں کے سامنے سے گزری تو سوچا آپکا بھی منہ میٹھا کیا جائے۔
غزل ملاحظہ ہو۔
تجھ کنے بیٹھے گھٹا جاتا ہے جی
کاہشیں کیا کیا اٹھا جاتا ہے جی
یوں تو مردے سے پڑے رہتے ہیں ہم
پر وہ آتا ہے تو آ جاتا ہے جی
ہائے! اس کے شربتی لب سے جدا
کیا بتاشا سا گھلا جاتا ہے جی
اب کی اس کی راہ میں جو ہو سو ہو
یاد بھی آتا ہے یا جاتا ہے جی
کیا کہیں تم سے کہ اس شعلہ بغیر
جی ہمارا کچھ جلا جاتا ہے جی
عشق آدم میں نہیں کچھ چھوڑتا
ہولے ہولے کوئی کھا جاتا ہے جی
اٹھ چلے پر اس کے غش کرتے ہیں ہم
یعنی ساتھ اس کے چلا جاتا ہے جی
آ نہیں پھرتا وہ مرتے وقت بھی
حیف! ہے اس میں رہا جاتا ہے جی
رکھتے تھے کیا کیا بنائیں پیشتر
سو تو اب آپ ہی ڈبا جاتا ہے جی
آسماں شاید ورے کچھ آ گیا
رات سے کیا کیا رکا جاتا ہے جی
کاش کے برقع رہے اس کے رخ پہ میر
منہ کھلے اس کے چھپا جاتا ہے جی
میر تقی میر

0 تبصرے:
ایک تبصرہ شائع کریں