نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

میر تقی میر کی شاعری

اردو ادب سے تعلق رکھنے والا شاید ہی کوئی ہوگا جو میر تقی  میر کے نام سے واقف نہ ہو۔ ان کو بعد میں آنے والے ہر شاعر نے اپنا استاد مانا ہے۔ اور کسی نہ کسی انداز میں اپنے پیار کا اظہار کیا ہے۔ آج ان کی ایک عزل آنکھوں کے سامنے سے گزری تو سوچا آپکا بھی منہ میٹھا کیا جائے۔ 

غزل ملاحظہ ہو۔


تجھ کنے بیٹھے گھٹا جاتا ہے جی

کاہشیں کیا کیا اٹھا جاتا ہے جی


یوں تو مردے سے پڑے رہتے ہیں ہم

پر وہ آتا ہے تو آ جاتا ہے جی


ہائے! اس کے شربتی لب سے جدا 

کیا بتاشا سا گھلا جاتا ہے جی


اب کی اس کی راہ میں جو ہو سو ہو

یاد بھی آتا ہے یا جاتا ہے جی


کیا کہیں تم سے کہ اس شعلہ بغیر

جی ہمارا کچھ جلا جاتا ہے جی


عشق آدم میں نہیں کچھ چھوڑتا 

ہولے ہولے کوئی کھا جاتا ہے جی


اٹھ چلے پر اس کے غش کرتے ہیں ہم

یعنی ساتھ اس کے چلا جاتا ہے جی


آ نہیں پھرتا وہ مرتے وقت بھی

حیف! ہے اس میں رہا جاتا ہے جی


رکھتے تھے کیا کیا بنائیں پیشتر

سو تو اب آپ ہی ڈبا جاتا ہے جی


آسماں شاید ورے کچھ آ گیا

رات سے کیا کیا رکا جاتا ہے جی


کاش کے برقع رہے اس کے رخ پہ میر

منہ کھلے اس کے چھپا جاتا ہے جی


میر تقی میر

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مطالعہ کی اہمیت

  انسان اور علم کا بنیادی اور باہمی تعلق ہے۔ انسان یہ علم شعوری اور غیر شعوری طور پر حاصل کرتا رہتا ہے۔ شعوری علم سے یہ ہے کہ ہم کسی چیز کے بارے میں جانے کا ارادہ کریں اور پھر اس کے لئے کوشاں رہیں حتی کہ اس چیز کے بارے میں مکمل طور پر آگاہی حاصل کر لیں۔ جب غیر شعوری علم وہ ہوتا ہے جس کے لئے ہمیں کوشش نہیں کرنی پڑتی بلکہ وہ اپنے آپ ہی حاصل ہوتا رہتا ہے۔۔ یہ علم آپ سڑک کنارے چلتے ہوئے بھی حاصل کر سکتے ہیں اور اگر آپ پریشان ہیں اور کچھ کرنے کا ارادہ نہیں ہے اور تب بھی حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔ میری نظر غیر شعوری علم کو زیادہ اہمیت حاصل ہے اور یہ اتنا وسیع مدعا ہے کہ اس پر الگ سے کرنی چاہیے جو کہ کبھی آئندہ آرٹیکل میں کروں گا۔  اب آتے ہیں اپنے اصل موضوع کی طرف اور وہ ہے مطالعہ کی اہمیت۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جو بھی اشخاص جہنوں نے ادب، آرٹ سائینس یا باقی شعبوں میں اپنا اپنا نام اجاگر کیا ہے وہ نہایت ہی مطالعہ پرست انسان تھے اور گھنٹوں گھنٹوں مطالعہ کرتے تھے۔ یہاں میں اپنے استاد جو پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے منسلک ہیں ان کی مثال دینا چاہوں گا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے زمانہ...

انا، توہین کا زخم اور جنگ

مجھے نیند کم آتی ہے۔ گہری ، مکمل بے خبری کی نیند تو میراسب سے بڑا خواب ہے۔ بڑے خواب کہاں پورا ہواکرتے ہیں۔  تھوڑی بہت نیند جو آتی ہے ،اس میں خیالات کے کئی سلسلے ہوتے ہیں۔ کچھ زنجیر کی مانند،کچھ خزاں میں اڑتے ہوئے پتوں کی طرح اور کچھ سررئیل مصوری کی طرح ۔ کہیں کی چیز، کہیں آن ملتی ہے۔ میں نیند اور بیداری کی سرحد پر ڈولتا رہتا ہوں۔ مجھے نہیں پتا چلتا کہ کب خواب کی مملکت میں چلا گیا ہوں،اور کب بیداری کی سلطنت میں۔  سرحد جہاں ہوتی ہے، جھگڑا رہتا ہے،یا جھگڑے کا امکان رہتا ہے۔ میرے اندر بھی ،رات کوکئی جھگڑے چلتے رہتے ہیں۔ اپنے خلاف، دنیا کے خلاف اور دنیا کو چلانے والوں کے خلاف۔ رات تو لڑائی کا ایک اور میدان ہی نہیں، آسمان بھی موجود تھا۔   گزشتہ رات ، جب کمرے کی روشنی بند کی ،اور اندھیر ے کو دیکھا تو مجھے جانے کیوں لگا کہ اندھیر ا،آدمی کو نگل سکتا ہے۔ اندھیرا، محض روشنی کے نہ ہونے کی حالت نہیں ہے، یہ ایک الگ ،جدا ، ہیبت ناک وجود ہے، جو بس چھیا رہتا ہے،روشنی کے بالکل پیچھے۔ جیسے آدمی کا سایہ ،آدمی کے آس پاس ہی منڈلاتا رہتا ہے۔  روشنی کے عقب میں چھپا ہوا اندھ...

بدلتے موسم۔۔۔ بدلتے انسان

یونہی موسم کی   ادا دیکھ  کے   یاد آیا  کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں موسم بدلتا ہے اور دلوں کو اداس کر دیتا ہے ۔ موسم بدلتے ہی انسان اپنے اندر ایک طرح کی اداسی محسوس کرنے لگتا ہے اس کا تعلق نفسیات سے بھی ہے اور سائنس سے بھی ہے۔  نفسیاتی پہلو: پہلے ہم نفسیاتی پہلو کو دیکھتے ہیں۔ موسم کی تبدیلی کچھ لوگوں کے لئے مخصوص یادیں یا واقعات کو تازہ کرتی ہے، جو اداسی کا باعث بنتی ہے۔ مثال کے طور پر بدلتے ہوئے موسم کو دیکھنا کسی کے لئے بدلے ہوئے حالات یا بدلے ہوئے انسان یاد دلا سکتا ہے۔ انسان عموما اداس صفت پایا گیا ہے۔ اور اسے موسم کے بدلنے سے ایسے واقعات ہی یاد آتے ہیں جو اس کے زندگی میں اداسی لائے۔ یہ واقعات اپنے کے بچھڑنے کے بھی ہو سکتے ہیں اور ان کے بدلتے رویوں کے بھی۔ یہ انسان کی نفسیات ہے کہ وہ خوشی کے پل بھول جاتا ہے جبکہ اداسی کے لمحات گاہے بگاہے یاد کرتا رہتا ہے۔ آسمانوں ہر بادل چھائے ہوں اور سوج کا نام نشاں تک نہ ہو ایسے وقت میں ایک اداسی کی لہر آتی ہے اور ہم اس وقت کو یاد کرنے لگتے ہیں جو صدیوں پہلے گزر گیا تھا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس وقت سب...