نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

مطالعہ کی اہمیت

 

انسان اور علم کا بنیادی اور باہمی تعلق ہے۔ انسان یہ علم شعوری اور غیر شعوری طور پر حاصل کرتا رہتا ہے۔ شعوری علم سے یہ ہے کہ ہم کسی چیز کے بارے میں جانے کا ارادہ کریں اور پھر اس کے لئے کوشاں رہیں حتی کہ اس چیز کے بارے میں مکمل طور پر آگاہی حاصل کر لیں۔ جب غیر شعوری علم وہ ہوتا ہے جس کے لئے ہمیں کوشش نہیں کرنی پڑتی بلکہ وہ اپنے آپ ہی حاصل ہوتا رہتا ہے۔۔ یہ علم آپ سڑک کنارے چلتے ہوئے بھی حاصل کر سکتے ہیں اور اگر آپ پریشان ہیں اور کچھ کرنے کا ارادہ نہیں ہے اور تب بھی حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔ میری نظر غیر شعوری علم کو زیادہ اہمیت حاصل ہے اور یہ اتنا وسیع مدعا ہے کہ اس پر الگ سے کرنی چاہیے جو کہ کبھی آئندہ آرٹیکل میں کروں گا۔ 

اب آتے ہیں اپنے اصل موضوع کی طرف اور وہ ہے مطالعہ کی اہمیت۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جو بھی اشخاص جہنوں نے ادب، آرٹ سائینس یا باقی شعبوں میں اپنا اپنا نام اجاگر کیا ہے وہ نہایت ہی مطالعہ پرست انسان تھے اور گھنٹوں گھنٹوں مطالعہ کرتے تھے۔ یہاں میں اپنے استاد جو پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے منسلک ہیں ان کی مثال دینا چاہوں گا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے زمانہ طالب علمی میں  ہر روز مغرب کے بعد لائبریری سے نکلتے تھے۔ یہاں سے ایک بات تو نکل کر سامنے آتی ہے مطالعہ کا شوق انسان کو من چاہے مقام پر پہنچا سکتا ہے بشرطیکہ وہ اس میں ثابت قدم رہیں۔

مطالعہ انسان کی زندگی میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے جن میں ذہنی، روحانی اور فکری سب سے اوپر ہیں۔ کہا جاتا ہے علم زہن کی غذا ہے۔ ایک صاحب مطالعہ شخص جب کبھی اپنے دوستوں میں موجود ہوتا ہے تو وہ چند ہی منٹوں میں باقیوں کی سوچ کی گہرائیوں سے واقفیت حاصل کر لیتا ہے۔ اب اس کی معلوم ہے کہ کس خاص موضوع پر اسے بات کرنا چاہئے یا کی جا سکتی ہے اور  کس موضوع کو جانے دینا چاہیے۔  اس کے علاوہ ایک مطالعہ کا شوقین شخص ذہنی سکون میں رہتا ہے اس کے لئے بہت سی پریشانیاں جو عام انسان کے لئے اس کی  زندگی میں بھونچال لا سکتی ہے معمولی نظر آتی ہیں ۔

مطالعہ روحانی سکون کا بھی ذریعہ ہے یہ زہن کو یکسوئی اور توجہ عطا کرتا ہے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ آجکل انسان  تیزی کا شکار ہے جس کی وجہ سے بے سکونی بڑھنے لگی ہے۔ مطالعہ انسان کو ایک نقطہ پر توجہ مرکوز کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے جس کی وجہ سے زندگی میں ٹھہراو  آتا ہے اور وہ موجودہ لمحہ میں مطمئن اور خوش رہتا ہے۔ جب آپ ایک خاص موضوع کے بارے میں پڑھ رہے ہوتے ہیں تو آپ ہزار طرح کی غلط سوچوں سے پاک رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ انسان کے اندر مثبت سوچ پیدا کرتا ہے اور کسی بھی طرح کے حالات سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ جب ہم تنہا ہوتے ہیں ہمارے خیالات کہاں کہاں نہیں جاتے ہیں ان سب سے بچنے کا موثر حل مطالعہ ہے۔

فکری سوچ کے لحاظ سے دیکھا جائے تو مطالعہ نہایت ہی مفید ثابت ہوتا ہے۔ ایک مطالعہ کرنے والے انسان کے موضوعات عام تو پر آفاقی ہوتے ہیں اور وہ ہر طرح کے درپیش مسائل بہت اوپر سے دیکھ رہا ہوتا ہے اور وہ ان مسائل کے قد کا بخوبی اندازہ لگا سکتا ہے یا لگاتا ہے۔ 

اب ہم مطالعہ کے چند ایک معاشرتی فائدوں پر غور کرتے ہیں۔ اس کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ ایک باشعور اور مہذب معاشرے کی تکمیل ہوتی ہے۔ لوگوں کے درمیان ہم آہنگی اور برداشت میں اضافہ ہوتا ہے اور معاشرتی مسائل کا حل نکل کر سامنے آتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ صاحب مطالعہ اشخاص کے درمیان کوئی نہ کوئی موضوع زیر بحث رہتا  ہے اور وہ ایک دوسرے کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔

مختلف طریقوں سے یہ بات ابھر کے سامنے آئی ہے کہ اس دور میں آہستہ آہستہ مطالعہ کرنے والوں میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ کم سے کم ایک یا دو صفحات کا مطالعہ ضرور کریں۔ اس کی وجہ سے باقی معاملات میں بھی پابندی حاصل کی جا سکتی ہے۔ مطالعہ کا انتخاب ہمیشہ معیاری ہونا چاہئے اس کے لئے ہم اپنے کسی عزیز مدد حاصل کر سکتے ہیں۔ ہم اہنے مطالعہ کو دلچسپ بھی بنا سکتے ہیں۔ اس کو دلچسپ بنانے کے لئے صرف "کتاب کھولنے " سے زیادہ کرنا پڑتا ہے۔۔ جب ہم اپنے آپ سے واقف ہوتے ہیں اور ہم اپنے شوق کو مدنظر رکھتے ہوئے کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہ اپنے آپ ہی دلچسپ بنتا جاتا ہے۔ اور اگر ہم نمایاں لکھاریوں کی کہانیاں پڑھیں اور ان میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ کہانیاں پڑھنے والے کو متجسس رکھتی ہیں اور مطالعہ اپنے آپ دلچسپ بنتا چلا جاتا ہے۔

آخر میں، میں بس اتنا ہی کہوں گا کہ ہمیں مطالعہ کو زندگی کا لازمی حصہ بنانا چاہئے کیوں کہ  اچھی کتابیں اور نیک لوگوں کی سیرت پڑھنا انسان کے اخلاق کو نکھارتا ہے صبر، برداشت اور ہمدردی پیدا کرتا ہے۔کہانیاں، شاعری اور ادب ذہن کو رنگین اور خیالات کو وسیع کرتے ہیں۔ یہ صلاحیت عملی زندگی میں مسائل حل کرنے میں بھی مدد دیتی ہے۔ 

علم اور مطالعہ کی اہمیت اقبال کے اس شعر میں بیان ہوئی ہے


خودی ہو علم سے محکم تو غیرتِ جبریل

 اگر ہو عشق سے محکم تو صُورِ اسرافیل


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

انا، توہین کا زخم اور جنگ

مجھے نیند کم آتی ہے۔ گہری ، مکمل بے خبری کی نیند تو میراسب سے بڑا خواب ہے۔ بڑے خواب کہاں پورا ہواکرتے ہیں۔  تھوڑی بہت نیند جو آتی ہے ،اس میں خیالات کے کئی سلسلے ہوتے ہیں۔ کچھ زنجیر کی مانند،کچھ خزاں میں اڑتے ہوئے پتوں کی طرح اور کچھ سررئیل مصوری کی طرح ۔ کہیں کی چیز، کہیں آن ملتی ہے۔ میں نیند اور بیداری کی سرحد پر ڈولتا رہتا ہوں۔ مجھے نہیں پتا چلتا کہ کب خواب کی مملکت میں چلا گیا ہوں،اور کب بیداری کی سلطنت میں۔  سرحد جہاں ہوتی ہے، جھگڑا رہتا ہے،یا جھگڑے کا امکان رہتا ہے۔ میرے اندر بھی ،رات کوکئی جھگڑے چلتے رہتے ہیں۔ اپنے خلاف، دنیا کے خلاف اور دنیا کو چلانے والوں کے خلاف۔ رات تو لڑائی کا ایک اور میدان ہی نہیں، آسمان بھی موجود تھا۔   گزشتہ رات ، جب کمرے کی روشنی بند کی ،اور اندھیر ے کو دیکھا تو مجھے جانے کیوں لگا کہ اندھیر ا،آدمی کو نگل سکتا ہے۔ اندھیرا، محض روشنی کے نہ ہونے کی حالت نہیں ہے، یہ ایک الگ ،جدا ، ہیبت ناک وجود ہے، جو بس چھیا رہتا ہے،روشنی کے بالکل پیچھے۔ جیسے آدمی کا سایہ ،آدمی کے آس پاس ہی منڈلاتا رہتا ہے۔  روشنی کے عقب میں چھپا ہوا اندھ...

بدلتے موسم۔۔۔ بدلتے انسان

یونہی موسم کی   ادا دیکھ  کے   یاد آیا  کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں موسم بدلتا ہے اور دلوں کو اداس کر دیتا ہے ۔ موسم بدلتے ہی انسان اپنے اندر ایک طرح کی اداسی محسوس کرنے لگتا ہے اس کا تعلق نفسیات سے بھی ہے اور سائنس سے بھی ہے۔  نفسیاتی پہلو: پہلے ہم نفسیاتی پہلو کو دیکھتے ہیں۔ موسم کی تبدیلی کچھ لوگوں کے لئے مخصوص یادیں یا واقعات کو تازہ کرتی ہے، جو اداسی کا باعث بنتی ہے۔ مثال کے طور پر بدلتے ہوئے موسم کو دیکھنا کسی کے لئے بدلے ہوئے حالات یا بدلے ہوئے انسان یاد دلا سکتا ہے۔ انسان عموما اداس صفت پایا گیا ہے۔ اور اسے موسم کے بدلنے سے ایسے واقعات ہی یاد آتے ہیں جو اس کے زندگی میں اداسی لائے۔ یہ واقعات اپنے کے بچھڑنے کے بھی ہو سکتے ہیں اور ان کے بدلتے رویوں کے بھی۔ یہ انسان کی نفسیات ہے کہ وہ خوشی کے پل بھول جاتا ہے جبکہ اداسی کے لمحات گاہے بگاہے یاد کرتا رہتا ہے۔ آسمانوں ہر بادل چھائے ہوں اور سوج کا نام نشاں تک نہ ہو ایسے وقت میں ایک اداسی کی لہر آتی ہے اور ہم اس وقت کو یاد کرنے لگتے ہیں جو صدیوں پہلے گزر گیا تھا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس وقت سب...