جمعہ، 5 ستمبر، 2025

سب متاثرین ہیں




پاکستان میں قدرتی آفات کی بھرمار ہے اور یہ آفات ہماری ہی پیدا کردہ ہیں. ہر دور میں  موجودہ حکومت اس بات پر زور دیتی نظر آتی ہے کہ کسی طرح ان حالات کے دوران لوگ اس بات پر یقین کر لیں کہ حکومت نے سر توڑ محنت کی۔ اس ضمن میں مدد کم کی جاتی ہے اور دکھائی زیادہ جاتی ہے۔

اب کی بار بھی کچھ یہی حالات ہیں۔ ایک خبر تو یہ بھی آئی کہ راشن دینے کے بعد جب تصویری بن گئیں تو وہ راشن واپس لے لیا گیا۔۔


 اس دفعہ سیلاب نے سارے ریکارڈ توڑے ہیں۔ 2022 میں سیلاب سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 33 ملین تھی جبکہ اس بار اس سے بھی زیادہ ہے۔ پہلے کے سیلابوں میں صرف غریب طبقہ ہی متاثرین میں شامل ہوتا تھا پر اس دفعہ پانچویں انگلیاں برابر ہیں۔


میری نظر میں جن لوگوں کے گھر سیلاب کی زد میں آئے ہیں وہ بھی متاثرین ہیں اور جن کے گھر نہیں آئے وہ بھی متاثرہ لوگ ہیں۔اس  کی ایک وجہ یہ ہے کہ انہوں نے متاثرین کو پناہ دی ہوئی ہے جو کہ اچھی بات ہے لیکن اس کے باوجود وہ متاثرین ہیں۔ اور دوسرا یہ وہ طرح طرح کی افواہیں سن کر خود کو ہلاک کیے بیٹھے ہیں۔ کچھ دن پہلے یہ افواہ پھیل گئی کہ دوست محمد لالی بریج میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ یہ بات جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ اکثر لوگ اس بات سے واقفیت نہیں رکھتے کہ پل کو تھرمل ایکسپینشن کی وجہ سے ہونے والے خطرے سے بچانے کے لئے ایسی دراڑیں جان بوجھ کر بنائی جاتی ہیں ۔

اکثر متاثرین کے مویشی سیلاب سے تو بچ گئے مگر بھوک سے بچنا مشکل نظر آ رہا یے۔ کیونکہ چارہ ملنا مشکل ہو گیا ہے اور جن کے پاس ہے اور مہنگا چارہ پیچ رہے ہیں۔ اس طرح یہ متاثرین سوکھی زمین پر بھی متاثرین ہی ہیں۔

سیلاب کا ایک نقصان یہ بھی ہوتا کہ علاقہ میں موجود فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ اس سیلاب میں بڑے پیمانے پر چاول کو فصل کو نقصان پہنچا ہے جو کہ بڑے پیمانے پر سیلاب کی نظر ہوئی ہے۔

میرے خیال میں ہم سب کو آئندہ بھی ایسے حالات کے لئے تیار رہنا چاہیے۔ پاکستان میں کسی بھی آنے والی حکومت کے پاس اس کا حل نہیں ہے۔ اور اگر ہے بھی تو اس کو کام نہیں کرنے دیا جائے گا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ قدرتی آفات کے دنوں میں بیرون ممالک سے ملنے والی امداد بند ہو جائے گی۔

وہ لوگ بھی متاثرہ ہیں جن کا خیال ہے کہ اگر ڈیم بن جاتا تو یہ حالات پیش نہ آتے۔ وہ اس بات سے بالکل بے خبر ہیں کہ ڈیم کا اس سیلاب سے کچھ لینا دینا  نہیں پے۔ ان کو یہ بات سمجھانے کے باوجود بھی سمجھ نہیں آ رہی۔

نوجوانوں کے پسندیدہ شاعر ضیاء مذکور کا شعر ہے کہ: 

دریا  کے   تجاوز کا  برا  ماننے  والے

دریا کا ہی چھوڑا ہو رقبہ ہے ترے پاس


کہیں نہ کہیں متاثرین بھی اس میں شامل ہیں کہ وہ خود اپنے لیے  تباہی کا موجب بنتے ہیں۔ انہوں نے ایسی جگہوں پر رہنا مناسب سمجھا جو زمین دریا ہی کا حصہ ہے۔


جمعرات، 28 اگست، 2025

مصنوعی ذہانت اور ہراری کی نئی کتاب

 حال ہی میں اسرائیلی مصنف یووال نوح ہراری کی نئی کتاب شائع ہوئی ہے 

کتاب کا نام ہے 

Nexus: A Brief History of Information Networks from the Stone Age to AI 


 ہراری  ہمارے زمانے  کے  بڑے نہیں،مقبول عام مصنف ضرور ہیں۔بڑا مصنف ہر شے کو گہرائی میں دیکھتا، کئی اطراف سے دیکھتا اور  نئے اور بڑے سوالات قائم کرتا ہے۔ مقبول عام مصنف، ایک واضح نقطہ ء نظر کو سادہ وسہل زبان میں عوام تک پہنچاتا ہے۔

 

ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ دنیا کا ناک نقشہ ،زیادہ تر مقبول عام مصنف بناتے ہیں، ہر زمانے کے مقبول عام مصنف۔ 

بڑے مصنف سراہے زیادہ، پڑھے کم جاتے ہیں۔ سمجھے تو اس سے بھی کم جاتے ہیں۔ 

دوسری طرف اکثر مقبول عام مصنف ، بڑے مصنفوں  کے خیالات کو سادہ وسہل زبان میں پیش کرنےو الے ہوتے ہیں۔

 

بہ ہر کیف ہراری ایک مقبول عام مصنف ہیں۔ وہ مقبول عام مصنف  ہی کی مانند، مقتدر قوتوں کی ناراضی سے بچتے ہیں۔ وہ اپنی کتابوں میں نازی ازم ، سٹالن از م پر کھل کر تنقید کرتے ہیں، مگر صیہونیت اور استعماریت  پر   تنقید سے گریز کرتے ہیں، بس چلتے چلتے کہیں اشارہ کردیتے ہیں۔

 

ان کی نئی کتاب  ان کی پہلی کتابوں  ہی کا تسلسل ہے۔ اس کتاب میں وہ انفارمیشن کی تاریخ (جو  جال یعنیNexus کی صورت وجود رکھتی ہے ) پتھر کے زمانے سے مصنوعی ذہانت کے عہد تک بیان کرتے ہیں۔ بالکل سادہ ،عام فہم انداز میں۔سادہ اور عام فہم انداز میں کئی اہم باتوں کے ذکر کو حذف کرنا پڑتا ہے۔ تفصیلی بحث سے گریز کرنا پڑتا ہے۔ خاص بات یہ ہے  کہ انفارمیشن پر لکھی گئی  یہ کتاب ، خود انفارمیشن کا درجہ رکھتی ہے۔اگرچہ ا س میں انفارمیشن  کو دانائی کے مقابل سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے، مگر یہ کتاب ،کتاب ِحکمت نہیں، تاریخی و معاصر عہد سے متعلق معلومات اور ان کے ضمن میں ایک واضح نقطہ نظر کی حامل کتاب ہے۔

 

اس سے پہلے وہ اپنی کتاب Homo Deusمیں  انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سماج پر اثرات کو موضوع بناچکے ہیں۔ ان کی اس کتاب ہی سے یہ بات عام وخاص تک پہنچی ہے کہ کس طرح انٹر نیٹ کے الگوردم  ہمارے خیالات واحساسات کومخصوص ہیئت  دے رہے ہیں اور   ہمیں فیصلہ سازی کے اختیار سے محروم کررہے ہیں۔ ہماری زندگیاں، الگوردم  کے رحم وکرم پر ہیں۔ وہ اپنی تازہ  ترین کتاب میں بھی انفرمیشن  ، سچ، دانش ، کہانیوں ، سیاسی پاپولزم  کے ساتھ ساتھ ، مصنوعی ذہانت کو بھی زیر بحث لائے  ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے سلسلے میں ان کے  خیالات اس قابل ہیں کہ ان کا یہاں ذکر کیا جائے۔

 

ہراری کے مطابق  انسانوں کو ہوموسیپینز کہا گیا ہے، یعنی دانش مند انسان۔ لیکن  حقیقت یہ ہے کہ  گزشتہ ایک لاکھ سال سے اس دانش مند انسان نے خود کو تباہ کرنے کا مسلسل سامان  کیا ہے ۔ہراری  مصنوعی ذہانت کو بھی خود کو تباہ کرنے کے سامان میں شامل کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ انسان کی دانش اس وقت کہاں ہوتی ہے، جب وہ اپنے  ہاتھوں عالم کو تباہ کرڈالنےو الے آلات ایجاد کرتا اور انھیں عام کرتا ہے؟ ہراری س سوال  کے جواب میں اساطیر اور شاعری کی طرف رجوع کرتا ہے۔ پہلے وہ یونانی  یونانی  فائیٹون (Phaethon) کی اسطور ہ  کا ذکر کرتا ہے۔

 

فائیٹون  ، سوریا دیوتا ہیلیوس کا بیٹا ہے۔اسے اپنے اعلیٰ خاندان سے تعلق کا تکبر ہے۔ یہ تکبر اسے چین سے نہیں بیٹھنے دیتا۔ (جیسے خود کو تمام  مخلوقات سے  برتر ہونے کا غرور انسان کو مضطرب رکھتا ہے ) ۔ وہ ضد کرتا ہے کہ وہ سورج کو کھینچنے والی بگھی کو  خود چلا ئے گا، یعنی آسمانی مملکت  میں داخل ہوکر ، آسمانی طاقت کو اپنے اختیار میں لائے گا۔ وہ کسی کی بات  نہیں مانتا۔ وہ بگھی پر بیٹھ جاتا ہے۔ بگھی اس کے قابو سے نکل  جاتی ہے۔ سورج اپنے مقررہ راستے سے ہٹ جاتا ہے،یعنی فطرت کے نظم میں ایک عظیم خلل پیدا ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا میں تباہی آتی ہے۔ نباتات اور دیگر مخلوقات جل کر راکھ ہوجاتی ہیں۔ ایسے میں زیوس مداخلت کرتا ہے ۔ وہ فائیٹون کو طوفان بادو باراں سے مار ڈالتا ہے۔وہ متکبر انسان راکھ کے ذروں کی مانند زمین پر گرتا ہے۔دیوتاآسمانی اختیار بحال کرتے ہیں اور دنیا کو بچالیتے  ہیں۔ یہ کہانی ،فطرت کو تسخیر کرنے کی ضد اور اس کے عواقب کی کہانی ہے۔ فطرت کو تسخیر کرنے کی کوئی کوشش،مہلک  اثرات سے محفوظ ہوسکی ہے؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔

 

گوئٹے کی نظم ’’جادوگر کا   بالکا‘‘ (۱۷۹۷ء)میں جادوگر  ایک ورکشاپ چلاتا ہے۔وہ کسی کام سے باہر جاتا ہے۔ وہ شاگرد کے ذمے چھوٹے موٹے کام لگا جاتا ہے۔ مثلاً یہ  کہ  وہ ندی سے ورکشاپ کے لیے پانی لے آئے۔ بالکا ایک منتر سے جھاڑو کو ندی سے پانی لانے کے بھیجتا ہے۔وہ منتر بھول جاتا ہے۔ جھاڑو پانی لاتارہتا ہے۔ ضرورت سے زیادہ پانی ورکشاپ میں جمع ہوجاتا ہے۔ وہ غصے میں جھاڑو کے دو ٹکڑے کرتا ہے۔ دونوں ٹکڑے پانی لانے لگتے ہیں۔جادوگرخود آکر منتر پڑھتا ہے تو جھاڑو پانی لانا بند کرتے ہیں۔

 

ان دونوں پرانے  متون میں  فطرت کو مطیع کرنے ہی کے عمل میں تباہی لانے کو موضوع بنایا گیا ہے۔تاہم ہراری  ان  دونوں کہانیوں پر تنقید بھی کرتا ہے۔یہ کہ اس میں تباہی کا ذمہ دار ایک شخص کو قرار دیا گیا ہے، جب کہ یہ اجتماعی عمل ہے۔اسی طرح دونوں کہانیوں میں ایک فرد کو لامحدود طاقت کا حامل قرار دے کر نجات دہندہ بھی  بنایا گیا ہے۔ ہراری نجات کو بھی اجتماعی قرار دیتا ہے۔ وہ ہر انسانی اجتماع  یا گروہ کو کہانیوں کی پیداوار کہتا ہے۔ نسل ، مذہب، قوم ،ثقافت یا کسی از م کی کہانی ۔ چناں چہ اگر نجات کہیں ہے تو ان کہانیوں پر تنقیدی نگاہ ڈالنے اور انھیں بدلنے میں ہے۔


ہر نئی ایجا دکے ساتھ ، اس کی ایک کہانی بھی وضع ہوجایا کرتی ہے۔ ٹیلی گراف  سے انٹرنیٹ، گوگل ،فیس بک اور اب  مصنوعی ذہانت  کی ایجاد کے  پس منظر میں بھی کہانی ہے اور ان کی تشہیر وفروخت اور رواج ومقبولیت بھی کسی نہ کسی کہانی پر منحصر ہے۔

 

ہراری تسلیم کرتا ہے کہ  مصنوعی ذہانت کی یہ کہانی ابھی منقسم ہے۔مثلاً  امریکی سرمایہ دار مارک اینڈریسین کہتا  ہے کہ مصنوعی ذہانت ، انسانیت کے تمام  مسائل حل کردے گی۔یہ دنیاکو برباد نہیں کرے گی ،بلکہ  بچائے گی۔  دوسری طرف  ہراری یوشو بیجیو،جعفری ہنٹن،سام آلٹمان،ایلون مسک  اور مصطفیٰ سلیمان کا ذکر کرتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ اے آئی  ہماری تہذیب کو تباہ کردے گی۔ہراری ان کا ہم نو اہے۔ہراری مصنوعی ذہانت کو  سب سے بڑے خطرے کے  طور پر دیکھتا ہے۔وہ طب  اور دوسرے شعبوں میں مصنوعی ذہانت کی افادیت کا قائل ہے ، مگر یہ کہاں ضروری ہے کہ ایک چیز ایک جگہ مفید ہے تو وہ ہر جگہ ہی مفید ہوگی۔

 

ہراری مصنوعی ذہانت کو سب سے بڑا خطرہ  چند اسباب کے تحت قرار دیتا ہے۔ ایک یہ کہ یہ  دنیا کے موجود ہ تصادمات کو بڑھائے گی،کم نہیں کرے گی۔یہ  امید کہ انٹرنیٹ   کےسبب اربوں انسانوں میں فوری ابلاٖغ کا رشتہ ،انھیں  فکری وجذباتی طور پر بھی قریب کرے گا، دم توڑ چکی ہے۔ لوگوں کے  ہر نوع کے تعصبات مزید پختہ ہوئے ہیں اور انٹر نیٹ ان تعصبات کو مزید گہرا کرنے اور ان کے بے روک ٹوک اظہار کا ذریعہ بنا ہے۔ ہراری کے مطابق، مصنوعی ذہانت سلیکون کرٹن  پیدا کرنے جارہی ہے۔ ایک طرف مصنوعی ذہانت کے مالکان ہوں گے، دوسری جانب پوری دنیا۔گویا پوری دنیا ، ان نئے حکمرانوں کے رحم وکرم پر ہوگی۔

 

دوسرا سبب یہ ہے کہ بہ قول ہراری، مصنوعی ذہانت انسانی تاریخ  کی پہلی ٹیکنالوجی ہے جو خود فیصلے کرسکتی ہے اور خیالات تخلیق کرسکتی ہے۔ اس سے پہلے کی تمام ٹیکنالوجیز صرف انسانوں کی مدد کرتی تھیں، فیصلے نہیں کرتی تھیں۔بندوق خود فیصلہ نہیں کرتی تھی، بندوق بردار فیصلہ کرتا تھا۔ اب بندوق خود فیصلہ کرے گی کہ اسے کب اور کس پر گولی برسانی ہے۔مصنوعی ذہانت فیصلہ سازی میں انسانوں  کو بے دخل کرنے جارہی ہے۔اس کے فیصلے کیاہوں گے، کچھ معلوم نہیں۔


یہ ہم سب دیکھ چکے ہیں کہ مصنوعی ذہانت نظمیں لکھ سکتی ہے، موسیقی ترتیب دے سکتی ہے ، مگر ہراری کہتا ہے کہ یہ زندگی کی نئی صورتیں بھی ایجاد کرسکتی ہے۔ وہ یہ دعویٰ بھی کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت نیا جینیاتی کو ڈقم کرسکتی ہے  یا غیر نامیاتی کوڈ سے غیر نامیاتی چیزوں کو نامیاتی بناسکتی ہے۔ حالاں کہ ابھی مصنوعی ذہانت کا انقلاب، بالکل ابتدائی مرحلے میں ہے۔

 

انسانی تخلیقیت کو بھی مصنوعی ذہانت سے سنگین خطرہ ہے۔تخلیق کیاہے؟ ہراری جواب میں کہتا ہے کہ تخلیق کے دو مرحلے ہیں۔ پہلا مرحلہ کسی پیٹرن کو پہچاننا ہے۔ دوسرا مرحلہ اسے توڑنا ہے۔ مصنوعی ذہانت  کسی بھی پیٹرن کو  عام انسانوں سے بہتر سمجھ سکتی ہے۔ پیٹرن کو توڑنے کے کئی طریقے ہیں، یعنی کوئی نئی نظم تخلیق کرنے کے کئی امکانات ہیں۔ مصنوعی ذہانت  چوں کہ خود فیصلہ سازی کرسکتی ہے، اس لیے وہ کسی پیٹرن کوتوڑنے کے امکانات میں سے بہترین امکان کو منتخب کرنے کا فیصلہ بھی کرسکتی ہے۔

 

اب  ہمارے پاس کیا چارہ ہے؟ یہ کہ ہم تخلیق کے نئے پیٹرن وضع کریں، ایسے پیٹرن جن کا ڈیٹا مصنوعی ذہانت کے پا س نہیں ۔ یا پھر موجود پیٹرن کو ان طریقوں سے توڑیں، جن تک مصنوعی ذہانت کا’’تخیل‘‘ نہیں پہنچتا۔

یا پھر ہم دنیا کو نئی نظر سے دیکھیں۔ دنیا کو دیکھنے کو ہماری اب تک کی جو کنڈیشننگ ہوئی ہے، اس  سے آزادی حاص کریں۔


آخری بات یہ کہ مصنوعی ذہانت کے پاس اپنے جذبات نہیں ہیں۔مگر ہراری کے مطابق، اسی سبب سے وہ انسانی جذبات کو زیادہ بہتر انداز میں پہچان سکتی ہے۔ ایک انسان دوسرے انسان کے جذبات کو پہچاننے میں اس لیے غلطی کرتا ہے کہ وہ خود اپنے جذبات کے جنگل میں بھٹک  رہا ہوتا ہے۔ اسے وہ پرسکون ، بے خلل ذہنی کیفیت کم ہی نصیب ہوتی ہے،جب وہ دوسرے انسان کی جذباتی حالت کو اس کی اصل صورت میں  سمجھ سکے اور اس کے لیے مناسب زبان  اختیار کرسکے۔


 مصنوعی ذہانت کاکوئی اپنا جذباتی بیابان نہیں ہے،اس لیے وہ اپنے وسیع ڈیٹا کی مدد سے  انسانی جذبات کو بے خلل انداز میں  سمجھ لیتی ہے۔اب تک ادب، سائنس اور تاریخ نے انسانی جذبات کو جس طور سمجھا ہے، جنریٹو مصنوعی ذہانت کے پاس وہ سب محفوظ بھی ہے، اور اسے بے داغ ذہانت کے ساتھ بروے کار لانے کا طریقہ بھی ہے۔ 

 شاعری میں بھی، مصنوعی ذہانے  اسی لیے ن انسانی جذبات کا اظہار کرسکتی ہے ۔شاعری کے موجود ومحفوظ پیٹرن کو پہچان کرا ور پھر توڑ کر۔

 یہ خطرہ معمولی نہیں ہے۔


انسان کے پاس تخلیق سے بڑا کوئی شرف نہیں ہے۔ جنریٹو مصنوعی ذہانت، اس کے لیے بڑا،سنگین ، حقیقی خطرہ ہے۔ 

ناصر عباس نیّر 

۲۸ اگست ۲۰۲۴ء


پیر، 25 اگست، 2025

Mickey 17

 

مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی

موت  آتی  ہے  پر  نہیں  آتی

"Everything you can imagine is real."

جہاں مسلمان حال تو دور ماضی میں پھنسے ہوئے ہیں وہیں انگریزی اس بات میں مگن ہیں کہ مستقبل کیسا ہوگا اور اس ضمن وہ آئے دن ایسے ایسے شہکار خیالات سامنے لاتے ہیں کہ مری عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ہم تو ابھی اس سوچ سے ابھر نہیں پا رہے کہ فلمیں دیکھنا حلال ہے یا حرام۔  بہرحال یہ فلم دیکھنے کے بعد اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہوں اور اس پہ اظہار خیال کرنے کا ارادہ کیا۔ 

یہ ایک ڈارک کامیڈی اور سائنس فکشن فلم ہے۔ ہدایتکار ہیں بونگ جون ہو جنہوں نے مشہور زمانہ فلم پیراسائٹ   بنائی جس پر انہیں ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔

مرکزی کردار نبھایا ہے رابرٹ پیٹرسن نے جس کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔

فلم کی کہانی دلچسب ہے۔ 2054 کا سن ہے۔ مکی بارنز نامی شخص اپنے دوست ٹیمو کے ساتھ ایک خلائی مشن جوائن کرتا ہے۔ یہ مشن ایک برفیلے سیارے نیفلہائم کی طرف بھیجا جا رہا ہے۔


مکی کی ملازمت بہت عجیب نوعیت کی ہے۔ مکی اس مشن میں "ایکسپینڈیبل" کے طور پر شامل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مکی کو اس سفر کے دوران خطرناک کام کرنے ہوں گے جس میں اس کی جان جا سکتی ہے۔ مگر ہر بار جب وہ مرے گا اس کا ایک کلون یعنی نقل تیار کی جائے گی جو ہو بہو اس کی طرح ہوگی۔


یہ نیا کلون اسی طرح اپنا کام جاری رکھے گا۔  اگر کسی مہم کے دوران یہ مر گیا تو ویسا ہی ایک اور کلون بنا دیا جائے گا۔


اسی طرح مرتے مرتے بات پہنچ جاتی ہے سترہ نمبر کلون تک یعنی مکی 17 تک۔ یہ والا مکی اپنے کام کے دوران برف ٹوٹنے سے کھائی میں گر جاتا ہے۔ 


مکی کا کوئی اتا پتا نہیں لگتا۔ سب یہ سمجھ لیتے ہیں کہ مکی 17 مر چکا ۔ سو اس کا ایک نیا کلون تیار کر دیا جاتا ہے یعنی مکی 18.


اب مکی 17 واپس آتا پے تو مکی 18 کو دیکھ کر پرہشان ہو جاتا ہے۔ اب دونوں میں سے ایک کو مرنا ہوگا۔ مگر مرنے کے لیے کوئی تیار نہیں۔ سو اس عجیب داستان میں آگے کیا ہوگا۔ اس کے لیے فلم دیکھنا ہوگی ۔


فلم انسانی کلوننگ جیسے حساس موضوع اور اس سے جڑے اخلاقی اور سماجی مسائل پر روشنی ڈالتی ہے۔ انسانی کلون بنانا کس حد تک خطرناک ہو سکتا ہے یہ اس فلم کو دیکھ کر پتہ چل سکتا ہے۔


مزے دار فلم ہے۔ اس کا ایک ڈائیلاگ مجھے اچھا لگا جب مکی 17 اپنے نئے کلون سے کہتا ہے کہ پہلے جب میں مرتا تھا تو مجھے فکر نہیں ہوتی تھی کیوں کہ مجھے پتہ ہوتا تھا کہ میں دوبارہ زندہ ہو جاؤں گا۔ مگر اس دفعہ معاملہ مختلف ہے۔ اب اگر میں مر گیا تو ختم ہو جاؤں گا ۔ کیوں کہ تم موجود ہو اور اگلی ساری زندگیاں تم جیو گے۔


اتوار، 24 اگست، 2025

بدلتے موسم۔۔۔ بدلتے انسان


یونہی موسم کی   ادا دیکھ  کے   یاد آیا 

کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں


موسم بدلتا ہے اور دلوں کو اداس کر دیتا ہے ۔ موسم بدلتے ہی انسان اپنے اندر ایک طرح کی اداسی محسوس کرنے لگتا ہے اس کا تعلق نفسیات سے بھی ہے اور سائنس سے بھی ہے۔ 

نفسیاتی پہلو:

پہلے ہم نفسیاتی پہلو کو دیکھتے ہیں۔ موسم کی تبدیلی کچھ لوگوں کے لئے مخصوص یادیں یا واقعات کو تازہ کرتی ہے، جو اداسی کا باعث بنتی ہے۔ مثال کے طور پر بدلتے ہوئے موسم کو دیکھنا کسی کے لئے بدلے ہوئے حالات یا بدلے ہوئے انسان یاد دلا سکتا ہے۔ انسان عموما اداس صفت پایا گیا ہے۔ اور اسے موسم کے بدلنے سے ایسے واقعات ہی یاد آتے ہیں جو اس کے زندگی میں اداسی لائے۔ یہ واقعات اپنے کے بچھڑنے کے بھی ہو سکتے ہیں اور ان کے بدلتے رویوں کے بھی۔ یہ انسان کی نفسیات ہے کہ وہ خوشی کے پل بھول جاتا ہے جبکہ اداسی کے لمحات گاہے بگاہے یاد کرتا رہتا ہے۔ آسمانوں ہر بادل چھائے ہوں اور سوج کا نام نشاں تک نہ ہو ایسے وقت میں ایک اداسی کی لہر آتی ہے اور ہم اس وقت کو یاد کرنے لگتے ہیں جو صدیوں پہلے گزر گیا تھا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس وقت سب اچھا تھا حالانکہ اس وقت اس اور اب کے وقت کا اندازہ لگایا جائے تو زمین آسمان کا فرق نظر آئے۔ اور چاہے یہ موجودہ وقت ہزار گناہ بہتر ہو۔ ہمیں پھر بھی وہی پرانا وقت ہی اچھا لگتا ہے جو ہماری یادوں کا حصہ ہو۔

اوپر بیان ہوئے شعر میں بھی شاعر احمد فراز نے بدلتے موسم کو اداسی کی علامت کے طور پہ بیان کیا ہے۔ اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے(جس میں وہ کامیاب بھی ہوئے ہیں) کہ موسم کا بدلنا اداسی لاتا ہے۔ ایسے موسم میں جی میں آتا ہے کہ وہ چائے کا کپ ہاتھ میں لے اور گھر کی دہلیز پہ بیٹھ جائے اور ماضی کی زندگی میں غوطہ زن ہی رہے۔

سائینسی پہلو:

موسم کے بدلنے اور انسان کے اداس ہونے کے پیچھے سائینسی پہلو بھی ہے۔ جب آسمان پر بادل چھا جاتے ہیں تو سورج کی روشنی میں کمی واقع ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے (serotonin) سیرٹونن نامی کیمیکل کی دماغ میں سطح کم ہو جاتی ہے۔ یہ کیمیکل ہمارے مزاج کو خوشگوار بنانے میں نہایت ہی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی سطح میں کمی کی وجہ سے اداسی کا غلبہ محسوس کیا جا سکتا ہے۔ روشنی ایک اور کیمیکل(melatonin) میلاٹونن کی پیداوار بھی متاثر کرتی ہے جس کی وجہ سے غنودگی چھائی رہتی ہے اور ہم گھنٹوں بستر پر پڑے رہنے کے باوجود اداسی اور تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں۔


موسم کی تبدیلی انسانی زندگی کے بیشمار پہلوؤں کو متاثر کرتی ہے تو آپ چاہے کتنا ہی ذہنی اور جسمانی طور پر مضبوط ہوں آپ اس کے لپیٹ میں ضرور آئیں گے

انا، توہین کا زخم اور جنگ



مجھے نیند کم آتی ہے۔ گہری ، مکمل بے خبری کی نیند تو میراسب سے بڑا خواب ہے۔ بڑے خواب کہاں پورا ہواکرتے ہیں۔


 تھوڑی بہت نیند جو آتی ہے ،اس میں خیالات کے کئی سلسلے ہوتے ہیں۔ کچھ زنجیر کی مانند،کچھ خزاں میں اڑتے ہوئے پتوں کی طرح اور کچھ سررئیل مصوری کی طرح ۔ کہیں کی چیز، کہیں آن ملتی ہے۔ میں نیند اور بیداری کی سرحد پر ڈولتا رہتا ہوں۔ مجھے نہیں پتا چلتا کہ کب خواب کی مملکت میں چلا گیا ہوں،اور کب بیداری کی سلطنت میں۔ 


سرحد جہاں ہوتی ہے، جھگڑا رہتا ہے،یا جھگڑے کا امکان رہتا ہے۔ میرے اندر بھی ،رات کوکئی جھگڑے چلتے رہتے ہیں۔ اپنے خلاف، دنیا کے خلاف اور دنیا کو چلانے والوں کے خلاف۔ رات تو لڑائی کا ایک اور میدان ہی نہیں، آسمان بھی موجود تھا۔ 


 گزشتہ رات ، جب کمرے کی روشنی بند کی ،اور اندھیر ے کو دیکھا تو مجھے جانے کیوں لگا کہ اندھیر ا،آدمی کو نگل سکتا ہے۔ اندھیرا، محض روشنی کے نہ ہونے کی حالت نہیں ہے، یہ ایک الگ ،جدا ، ہیبت ناک وجود ہے، جو بس چھیا رہتا ہے،روشنی کے بالکل پیچھے۔ جیسے آدمی کا سایہ ،آدمی کے آس پاس ہی منڈلاتا رہتا ہے۔


 روشنی کے عقب میں چھپا ہوا اندھیرا، روشنی کے وجود ہی کا حصہ ہے، اس کا باغی حصہ۔ وہ جب ظاہر ہوتا ہے تو پہلا احساس یہی ہوتا ہے کہ جیسے اس نے روشنی کو نگل لیا ہے، اورا س کی زبان سے سیاہ خون ٹپک رہا ہے۔ اور اب یہ ہر اس چیز کو نگل لے گا،جواس کے مقابل اور محیط میں آئے گا۔ میں نے چاہا کہ بیڈ سے اٹھوں اور بجلی کا سوئچ آن کردوں، مگر پھر خیال آیا کہ یہ بزدلی ہے۔


 دل نے کہا کہ دنیا میں کون ہے جو بزدل نہیں ہے؟ بس بزدلی کے اظہار کے قرینے جدا جدا ہیں۔ سورما وہی بنتاہے،جو نہیں چاہتا کہ لوگ اس کی بزدلی سے واقف ہوں۔ جو دل خوف محسوس کرتا ہے، احتیاط پسند ہوتا ہے، کیا وہ بزدل نہیں ہوتا؟ مجھے عجیب وغریب خیال آرہے تھے۔ اسی دوارن یہ خیال بھی آیا کہ جانے آج رات کیسے گزرے؟


 مجروح انا ، ایک شخص کی ہو یا قوم کی ، اسےا یک پل چین نہیں آتا۔ وہ اس زخم کا مرہم چاہتی ہے۔پہلے زمانے میں بادشاہ کی انا ہوا کرتی ہے۔ بادشاہ کی انا اتنی ہی بڑی ہوتی تھی ،جتنی بڑی اس کی سلطنت ہوا کرتی ، جتنا بڑا س کاقلعہ ،اس کا حرم اور اس کے خزانے کا صندوق ہوا کرتا تھا۔


 جدید زمانے میں قوم کی انا ہوا کرتی ہے۔ کسی عظیم شہنشاہ کی انا بھی ، قوم کی انا کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ بادشاہ تھک جاتا تھا، بے زار ہوجایا کرتا تھا،وہ جنگوں سے عاجز آکر اپنے حرم میں وقت گزارنا شروع کردیتا تھا ، یااس کی جگہ کوئی دوسرا بادشاہ لے لیا کرتا تھا ۔


 قوم تھکتی ہے ،نہ بے زار ہوتی ہے۔ قوم ایک شخص ہے، نہ ایک خطہ ،نہ ایک نسل ، نہ ایک مذہب،یہ ان سب کو محیط بھی ہے،اور ان سے ماور ابھی۔ یہ ایک عظیم تجرید ہے، روئے زمین پر موجود سب سے بڑی مابعد الطبیعیاتی حقیقت۔ اگرچہ یہ نظریے،حافظے، تاریخ ، فکشن ، شاعری کا امتزاج ہے ،مگر اپنی مجموعی حیثیت میں ایک عظیم و مقدس تجرید ہے۔


 یہ اپنا اظہار کچھ مخصوص علامتوں میں کرتی ہے، مگر ان سب علامتوں کو مقدس بنادیتی ہے۔ ان علامتوں کی تکریم، سب پر اسی طرح واجب ہوتی ہے،جس طرح کسی مذہب کے عقائد و شخصیات ومقامات ومتون کی۔ قوم ، جدیدزمانے کا سب سے بڑا مذہب ہے۔ قوم کی انا میں مذہب جیسی طاقت ہے؛جہاں مذہب ریاست کا حصہ نہیں ہے،وہاں بھی۔ا س لیے قوم کی انا کا مجروح ہوناکوئی عام ساواقعہ نہیں ہے۔

 

 مجھے خیال آیا کہ کیا کوئی زخم کبھی بھرا ہے؟ آدمی کو آدمی سے ،زمانے سے ، تقدیر اور تاریخ سے کتنے ہی زخم لگتے ہیں۔ ان میں سے کوئی زخم کبھی مندمل ہوا ہے؟ کیا وقت واقعی زخم کو مندمل کردیا کرتا ہے؟ 


اپنے پیاروں کی عارضی یا ابدی جدائی کا زخم ،ایک بڑا زخم ہوا کرتا ہے۔ کیا ہم اسے بھول جاتے ہیں،سہہ جاتے ہیں ،یا اس کے ساتھ جینا سیکھ لیتے ہیں؟ مجھے ناصر کاظمی یاد آیا:

 جدائیوں کے زخم دردِ زندگی نے بھر دیے

 تجھے بھی نیند آگئی ،مجھے بھی صبر آگیا  


ناصر کا جدائی کا زخم ، ایک بڑے درد میں چھپ گیا تھا، بھرا نہیں تھا۔ زندگی کا درد، جدائی کے زخم سے بڑا ہے۔ناصر نے کیسی گہری بات کہی ہے۔ بڑازخم، چھوٹے زخم کو بھر دیتا ہے۔ چھوٹا زخم، بڑے زخم میں ضم ہوجایا کرتا ہے۔ایک ٹیس، درد کی بڑی لہر میں بے نشان ہوجاتی ہے۔


 گویا کوئی زخم بھرتا نہیں ہے؛وہ خراب ہوتا ہے ، کہنہ ہوتا ہے ،اور آخر آخر میں ایک داغ بن کر رہ جاتا ہے۔ اسی گہری بات کا ایک اور باریک نکتہ بھی اہم ہے۔ یہ کہ زخم،طاقت سے گہرا رشتہ رکھتا ہے، طاقت بھی کوئی ایک طرح کی نہیں ۔ برداشت، صبر، وقت، عقیدہ سب طاقت ہیں۔

وقت بھی ایک طاقت ہے۔


 وقت اگر کسی زخم کو بھرتا ہے تو اس لیے نہیں کہ اس کے پاس زخموں کا کوئی مجرب نسخہ ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ آدمی سے زیادہ طاقت ور ہے۔ آدمی وقت کے آگے بے بس ہے۔ وقت کی فنا کی طاقت کے آگے،وقت کی تخلیقی قوت کے آگے۔

 

لیکن کیا وقت یا کوئی دوسری طاقت، سب طرح کے زخموں کو مندمل کرسکتی ہے؟ یہ سوچتے ہوئے، مجھے مصحفی یاد آیا

 مصحفی ہم تو یہ سمجھے تھے کہ ہوگا کوئی زخم

 تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا


ایک زخم ہے جو رستا رہتا ہے اور انسانی وجود کے معلوم نامعلوم گوشوں میں سرایت کر جاتا ہے۔ یعنی حافظے کے دیار میں پہنچ جاتا ہے۔انسانی حافظے دیار کی کوئی سرحد نہیں ہے۔


 آدمی کی عمر بھی ،آدمی کے حافظے کی سرحد نہیں ہے۔ اس کے آباؤ اجداد، ان کی تاریخ، کہانیاں، روایتیں اور پھر ا س کے قبیلے ،وطن ، ملک کی تاریخ،کہانیاں، سب آدمی کے حافظے کی دنیائیں ہیں، جن کی سرے سے کوئی سرحد ہی نہیں ہے۔ آدمی جب کسی زخم کی زد پر آتا ہے تو اس کا حافظہ کہاں کہاں نہیں بھٹکتا!جہاں جہاں بھٹکتا ہے ،وہیں زخم سے رسنےو الا لہو بھی بھٹکتا ہے۔


آدمی خود تو زخمی ہوتا ہی ہے، اپنے حافظے کے بے کنار دیار کو بھی زخمی کردیتا ہے۔ یہ سب اس وقت ہوتا ہے،جب آدمی کی توہین ہوتی ہے۔ توہین کا زخم ہی سب سے بڑا زخم ہے،سب سے زیادہ رسنےو الا۔


(جنگ کے روزنامچے کے ایک ورق سے انتخاب)

ناصر عباس نیّر

۲۳ اگست ۲۰۲۵ء

جمعہ، 22 اگست، 2025

میر تقی میر کی شاعری

اردو ادب سے تعلق رکھنے والا شاید ہی کوئی ہوگا جو میر تقی  میر کے نام سے واقف نہ ہو۔ ان کو بعد میں آنے والے ہر شاعر نے اپنا استاد مانا ہے۔ اور کسی نہ کسی انداز میں اپنے پیار کا اظہار کیا ہے۔ آج ان کی ایک عزل آنکھوں کے سامنے سے گزری تو سوچا آپکا بھی منہ میٹھا کیا جائے۔ 

غزل ملاحظہ ہو۔


تجھ کنے بیٹھے گھٹا جاتا ہے جی

کاہشیں کیا کیا اٹھا جاتا ہے جی


یوں تو مردے سے پڑے رہتے ہیں ہم

پر وہ آتا ہے تو آ جاتا ہے جی


ہائے! اس کے شربتی لب سے جدا 

کیا بتاشا سا گھلا جاتا ہے جی


اب کی اس کی راہ میں جو ہو سو ہو

یاد بھی آتا ہے یا جاتا ہے جی


کیا کہیں تم سے کہ اس شعلہ بغیر

جی ہمارا کچھ جلا جاتا ہے جی


عشق آدم میں نہیں کچھ چھوڑتا 

ہولے ہولے کوئی کھا جاتا ہے جی


اٹھ چلے پر اس کے غش کرتے ہیں ہم

یعنی ساتھ اس کے چلا جاتا ہے جی


آ نہیں پھرتا وہ مرتے وقت بھی

حیف! ہے اس میں رہا جاتا ہے جی


رکھتے تھے کیا کیا بنائیں پیشتر

سو تو اب آپ ہی ڈبا جاتا ہے جی


آسماں شاید ورے کچھ آ گیا

رات سے کیا کیا رکا جاتا ہے جی


کاش کے برقع رہے اس کے رخ پہ میر

منہ کھلے اس کے چھپا جاتا ہے جی


میر تقی میر

مطالعہ کی اہمیت

 

انسان اور علم کا بنیادی اور باہمی تعلق ہے۔ انسان یہ علم شعوری اور غیر شعوری طور پر حاصل کرتا رہتا ہے۔ شعوری علم سے یہ ہے کہ ہم کسی چیز کے بارے میں جانے کا ارادہ کریں اور پھر اس کے لئے کوشاں رہیں حتی کہ اس چیز کے بارے میں مکمل طور پر آگاہی حاصل کر لیں۔ جب غیر شعوری علم وہ ہوتا ہے جس کے لئے ہمیں کوشش نہیں کرنی پڑتی بلکہ وہ اپنے آپ ہی حاصل ہوتا رہتا ہے۔۔ یہ علم آپ سڑک کنارے چلتے ہوئے بھی حاصل کر سکتے ہیں اور اگر آپ پریشان ہیں اور کچھ کرنے کا ارادہ نہیں ہے اور تب بھی حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔ میری نظر غیر شعوری علم کو زیادہ اہمیت حاصل ہے اور یہ اتنا وسیع مدعا ہے کہ اس پر الگ سے کرنی چاہیے جو کہ کبھی آئندہ آرٹیکل میں کروں گا۔ 

اب آتے ہیں اپنے اصل موضوع کی طرف اور وہ ہے مطالعہ کی اہمیت۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جو بھی اشخاص جہنوں نے ادب، آرٹ سائینس یا باقی شعبوں میں اپنا اپنا نام اجاگر کیا ہے وہ نہایت ہی مطالعہ پرست انسان تھے اور گھنٹوں گھنٹوں مطالعہ کرتے تھے۔ یہاں میں اپنے استاد جو پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے منسلک ہیں ان کی مثال دینا چاہوں گا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے زمانہ طالب علمی میں  ہر روز مغرب کے بعد لائبریری سے نکلتے تھے۔ یہاں سے ایک بات تو نکل کر سامنے آتی ہے مطالعہ کا شوق انسان کو من چاہے مقام پر پہنچا سکتا ہے بشرطیکہ وہ اس میں ثابت قدم رہیں۔

مطالعہ انسان کی زندگی میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے جن میں ذہنی، روحانی اور فکری سب سے اوپر ہیں۔ کہا جاتا ہے علم زہن کی غذا ہے۔ ایک صاحب مطالعہ شخص جب کبھی اپنے دوستوں میں موجود ہوتا ہے تو وہ چند ہی منٹوں میں باقیوں کی سوچ کی گہرائیوں سے واقفیت حاصل کر لیتا ہے۔ اب اس کی معلوم ہے کہ کس خاص موضوع پر اسے بات کرنا چاہئے یا کی جا سکتی ہے اور  کس موضوع کو جانے دینا چاہیے۔  اس کے علاوہ ایک مطالعہ کا شوقین شخص ذہنی سکون میں رہتا ہے اس کے لئے بہت سی پریشانیاں جو عام انسان کے لئے اس کی  زندگی میں بھونچال لا سکتی ہے معمولی نظر آتی ہیں ۔

مطالعہ روحانی سکون کا بھی ذریعہ ہے یہ زہن کو یکسوئی اور توجہ عطا کرتا ہے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ آجکل انسان  تیزی کا شکار ہے جس کی وجہ سے بے سکونی بڑھنے لگی ہے۔ مطالعہ انسان کو ایک نقطہ پر توجہ مرکوز کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے جس کی وجہ سے زندگی میں ٹھہراو  آتا ہے اور وہ موجودہ لمحہ میں مطمئن اور خوش رہتا ہے۔ جب آپ ایک خاص موضوع کے بارے میں پڑھ رہے ہوتے ہیں تو آپ ہزار طرح کی غلط سوچوں سے پاک رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ انسان کے اندر مثبت سوچ پیدا کرتا ہے اور کسی بھی طرح کے حالات سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ جب ہم تنہا ہوتے ہیں ہمارے خیالات کہاں کہاں نہیں جاتے ہیں ان سب سے بچنے کا موثر حل مطالعہ ہے۔

فکری سوچ کے لحاظ سے دیکھا جائے تو مطالعہ نہایت ہی مفید ثابت ہوتا ہے۔ ایک مطالعہ کرنے والے انسان کے موضوعات عام تو پر آفاقی ہوتے ہیں اور وہ ہر طرح کے درپیش مسائل بہت اوپر سے دیکھ رہا ہوتا ہے اور وہ ان مسائل کے قد کا بخوبی اندازہ لگا سکتا ہے یا لگاتا ہے۔ 

اب ہم مطالعہ کے چند ایک معاشرتی فائدوں پر غور کرتے ہیں۔ اس کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ ایک باشعور اور مہذب معاشرے کی تکمیل ہوتی ہے۔ لوگوں کے درمیان ہم آہنگی اور برداشت میں اضافہ ہوتا ہے اور معاشرتی مسائل کا حل نکل کر سامنے آتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ صاحب مطالعہ اشخاص کے درمیان کوئی نہ کوئی موضوع زیر بحث رہتا  ہے اور وہ ایک دوسرے کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔

مختلف طریقوں سے یہ بات ابھر کے سامنے آئی ہے کہ اس دور میں آہستہ آہستہ مطالعہ کرنے والوں میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ کم سے کم ایک یا دو صفحات کا مطالعہ ضرور کریں۔ اس کی وجہ سے باقی معاملات میں بھی پابندی حاصل کی جا سکتی ہے۔ مطالعہ کا انتخاب ہمیشہ معیاری ہونا چاہئے اس کے لئے ہم اپنے کسی عزیز مدد حاصل کر سکتے ہیں۔ ہم اہنے مطالعہ کو دلچسپ بھی بنا سکتے ہیں۔ اس کو دلچسپ بنانے کے لئے صرف "کتاب کھولنے " سے زیادہ کرنا پڑتا ہے۔۔ جب ہم اپنے آپ سے واقف ہوتے ہیں اور ہم اپنے شوق کو مدنظر رکھتے ہوئے کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہ اپنے آپ ہی دلچسپ بنتا جاتا ہے۔ اور اگر ہم نمایاں لکھاریوں کی کہانیاں پڑھیں اور ان میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ کہانیاں پڑھنے والے کو متجسس رکھتی ہیں اور مطالعہ اپنے آپ دلچسپ بنتا چلا جاتا ہے۔

آخر میں، میں بس اتنا ہی کہوں گا کہ ہمیں مطالعہ کو زندگی کا لازمی حصہ بنانا چاہئے کیوں کہ  اچھی کتابیں اور نیک لوگوں کی سیرت پڑھنا انسان کے اخلاق کو نکھارتا ہے صبر، برداشت اور ہمدردی پیدا کرتا ہے۔کہانیاں، شاعری اور ادب ذہن کو رنگین اور خیالات کو وسیع کرتے ہیں۔ یہ صلاحیت عملی زندگی میں مسائل حل کرنے میں بھی مدد دیتی ہے۔ 

علم اور مطالعہ کی اہمیت اقبال کے اس شعر میں بیان ہوئی ہے


خودی ہو علم سے محکم تو غیرتِ جبریل

 اگر ہو عشق سے محکم تو صُورِ اسرافیل