پاکستان میں قدرتی آفات کی بھرمار ہے اور یہ آفات ہماری ہی پیدا کردہ ہیں. ہر دور میں موجودہ حکومت اس بات پر زور دیتی نظر آتی ہے کہ کسی طرح ان حالات کے دوران لوگ اس بات پر یقین کر لیں کہ حکومت نے سر توڑ محنت کی۔ اس ضمن میں مدد کم کی جاتی ہے اور دکھائی زیادہ جاتی ہے۔
اب کی بار بھی کچھ یہی حالات ہیں۔ ایک خبر تو یہ بھی آئی کہ راشن دینے کے بعد جب تصویری بن گئیں تو وہ راشن واپس لے لیا گیا۔۔
اس دفعہ سیلاب نے سارے ریکارڈ توڑے ہیں۔ 2022 میں سیلاب سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 33 ملین تھی جبکہ اس بار اس سے بھی زیادہ ہے۔ پہلے کے سیلابوں میں صرف غریب طبقہ ہی متاثرین میں شامل ہوتا تھا پر اس دفعہ پانچویں انگلیاں برابر ہیں۔
میری نظر میں جن لوگوں کے گھر سیلاب کی زد میں آئے ہیں وہ بھی متاثرین ہیں اور جن کے گھر نہیں آئے وہ بھی متاثرہ لوگ ہیں۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ انہوں نے متاثرین کو پناہ دی ہوئی ہے جو کہ اچھی بات ہے لیکن اس کے باوجود وہ متاثرین ہیں۔ اور دوسرا یہ وہ طرح طرح کی افواہیں سن کر خود کو ہلاک کیے بیٹھے ہیں۔ کچھ دن پہلے یہ افواہ پھیل گئی کہ دوست محمد لالی بریج میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ یہ بات جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ اکثر لوگ اس بات سے واقفیت نہیں رکھتے کہ پل کو تھرمل ایکسپینشن کی وجہ سے ہونے والے خطرے سے بچانے کے لئے ایسی دراڑیں جان بوجھ کر بنائی جاتی ہیں ۔
اکثر متاثرین کے مویشی سیلاب سے تو بچ گئے مگر بھوک سے بچنا مشکل نظر آ رہا یے۔ کیونکہ چارہ ملنا مشکل ہو گیا ہے اور جن کے پاس ہے اور مہنگا چارہ پیچ رہے ہیں۔ اس طرح یہ متاثرین سوکھی زمین پر بھی متاثرین ہی ہیں۔
سیلاب کا ایک نقصان یہ بھی ہوتا کہ علاقہ میں موجود فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ اس سیلاب میں بڑے پیمانے پر چاول کو فصل کو نقصان پہنچا ہے جو کہ بڑے پیمانے پر سیلاب کی نظر ہوئی ہے۔
میرے خیال میں ہم سب کو آئندہ بھی ایسے حالات کے لئے تیار رہنا چاہیے۔ پاکستان میں کسی بھی آنے والی حکومت کے پاس اس کا حل نہیں ہے۔ اور اگر ہے بھی تو اس کو کام نہیں کرنے دیا جائے گا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ قدرتی آفات کے دنوں میں بیرون ممالک سے ملنے والی امداد بند ہو جائے گی۔
وہ لوگ بھی متاثرہ ہیں جن کا خیال ہے کہ اگر ڈیم بن جاتا تو یہ حالات پیش نہ آتے۔ وہ اس بات سے بالکل بے خبر ہیں کہ ڈیم کا اس سیلاب سے کچھ لینا دینا نہیں پے۔ ان کو یہ بات سمجھانے کے باوجود بھی سمجھ نہیں آ رہی۔
نوجوانوں کے پسندیدہ شاعر ضیاء مذکور کا شعر ہے کہ:
دریا کے تجاوز کا برا ماننے والے
دریا کا ہی چھوڑا ہو رقبہ ہے ترے پاس
کہیں نہ کہیں متاثرین بھی اس میں شامل ہیں کہ وہ خود اپنے لیے تباہی کا موجب بنتے ہیں۔ انہوں نے ایسی جگہوں پر رہنا مناسب سمجھا جو زمین دریا ہی کا حصہ ہے۔



